حُنَفَائَ وَیُقِیمُوا الصَّلَاةَ وَیُوتُوا الزَّکَاةَ وَذَلِکَ دِینُ القَیِّمَةِ
انہیں تو فقط یہ حکم دیا گیا تھا کہ یکسو ہوکر دین کو خدا کے لئے خالص رکھتے ہوئے صرف اللہ کی عبادت کریں ،نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں، یہی سیدھا اور استوار دین ہے ۔
اللہ تعالی نے انسان کو احسن تقویم میں خلق کیا ہے اور اسے اسفل سافلین میں قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اسے حکم دیا ہے کہ تجھے اعلی علیین تک پہنچنا ہے۔ انسان کی احسن تقویم خلقت اسفل سافلین میں نہایت سفلی صفات سے آلودہ ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے مسلسل تزکیہ و تھذیب کی تاکید ہے تاکہ انسان کی فطر پاک رہے۔ اسفل سافلین سے اعلی علیین تک کے بے نہایت سفر کے لئے فاطر کائنات نے انسان کے لئے منشور حیات نازل کیا ہے جس کا نام دین ہے اور اسے انسان کی سب سے بنیادی ضرورت قرار دیا ہے ۔
دین کا اصلی مقصد انسان کو مقصد خلقت تک رہنمائی کرنا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے دیاّن دین نے اسکے اندر ہر وہ چیز رکھ دی ہے جو انسان کی ضرورت ہو ۔آگہی، معرفت، نظم و انضباط، تعلیم و تزکیہ، مادیت و معونیت، معیشت و معاشرت، عبادت و دعا، جہاد و دفاع، انفرادیت و اجتماعیت، کسب و کار، خرچ و انفاق، تجارت و زراعت، تولید نسل و زوجیت، عمران و آبادی، جنگ و صلح غرض ہر شعبہ حیات سے متعلق ضروری ہدایت عطا کردی ہیں۔
قرآن مجید خداوند سبحان کا کلام ناب ہے ۔اس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں ہے ،نہ تحریف ہوئی ہے، نہ غیر اللہ کے کلام کو اس میں را ہ حاصل ہوئی ہے۔
ناب خالص صاف اور پاک چیز کو کہتے ہیں۔ دین خدا خالص صاف اور پاک ہے۔ اس کا مقصد انسان کو پاک اور خالص بنانا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان اس دین کوا خلاص کے ساتھ لے خالصا ًلے اور مخلصاً اس پر عمل کرے۔ اسکے اندر اپنی طرف سے کوئی آمیزش نہ کرے اللہ تعالی نے دین خالص کا منبع بھی ذکر فرمادیا ہے اور وہ خداوند تعالی کا خالص کلام اور سخن ناب یعنی قرآن کریم ہے۔ انسان کو ایسی کئی خالص اور ناب نعمتیں خالق کائنات کی طرف سے عطا ہوئی ہیں جیسے آب خالص ،ہوائے خالص، خالص ماحول، لیکن آج ہم دیکھتے ہیں یہ خالص ترین چیز انسان کے ہاتھوں آلودہ ہو چکی ہیں۔ آج پینے کے لئے خالص پانی انسان کی ایک بڑی مشکل کی شکل اختیار کر گیا ہے، خالص ہوا نایاب ہے اور ماحولیات تو فضا کے حدود میں بھی آلودگی سے بھری پڑی ہیں ۔
انسان نے نادانی اور جہالت کی وجہ سے خدا کے پاک ترین ہدیہ کو بھی ناخالص اور نا پاک بنانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن مجید میں خداوند تعالی نے بنی اسرائیل بالخصوص یہود کی خیانتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ
یُحَرِّفُون ال ´کَلِمَ عَن مَوَاضِعِہِ ....
وہ آیات خدا اور فرامین الہی کو اپنے مفہوم و معنیِ حقیقی سے ہٹا کر پیش کرتے تھے
ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ یہود اپنے ہاتھ سے عبارتیں لکھ کر اسے خدا کی طرف منسوب کرتے اور لوگوں میں یہ تاثر چھوڑتے تھے کہ یہ آیات الہی ہیں جبکہ اللہ تعالی نے انکے اس عمل کی شدید مذمت فرمائی ہے ۔
بنی اسرائیل کے ہاتھوں دین کے اندر تحریف کی داستان قرآن میں اس لئے درج کی گئی ہے تا کہ مومنین اس خطرے کی طرف متوجہ رہیں کہ بعض اوقات دین کے اندر ایسے اعمال بھی انجام دئیے جاتے ہیں کہ خدا کے خالص دین کو ناخالص بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ دین کی پیروی انسان کے لئے ضروری ہے ورنہ گمراہ اور ہلاک ہو جائے گا، ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ ہر دین کی پیروی سے نجات حاصل نہیں ہوتی فقط دین حق اور دین الہی کی اتباع سے نجات ملتی ہے اور دین الہی بھی اس وقت نجات دے گا جب خالص و پا ک ہو ورنہ ناخالص دین کسی انسان کو نہ دنیا میں نجات عطا کر سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں۔ جس طرح مریض کو دوا سے شفاملے گی لیکن نہ ہر دوا سے بلکہ وہ دوا جو طبیب تجویز کرتا ہے اور طبیب کی تجویز کردہ دوا اس وقت اثر دکھائے گی جب خالص ہو ورنہ نا خالص دواوں کے استعمال سے ہرگز مریض شفا نہیں پا سکتا۔
یہ سادہ لوحی اور سادہ اندیشی ہے کہ کوئی انسان یہ گمان کرے کہ جو کچھ بازار میں ملتا ہے وہ خالص ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بازار ناخالص چیزوں سے بھرے پڑے ہیں کیونکہ سودطلب عناصر کو انسانی جانوں کا خیال نہیں ہوتا بلکہ اپنی جیب و مال کی فکر ہوتی ہے، اس وجہ سے انسانی ضروریات کی اشیاءکو ملاوٹ کے ساتھ تیار کرتے اور بیچتے ہیں۔
ناخالص اور ملاوٹ کا بازار خورد و نوش کی اشیاءکی طرح دین و مذہب کی دنیا میں بھی گرم ہے۔ قرآن مجید میں دین فروشوں کا ذکر بار بار آیا ہے اور ان لوگوں کا تزکرہ بھی ہے جو دین میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اسے ناخالص بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔
دین کو ناخالص بنانے کے کئی طریقے ہیں جنکی نشاندہی کلام الہی میں کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک رائج طریقہ حق کو باطل سے ملانا ہے جسے” تلبیس حق بالباطل “ کہتے ہیں ۔
سورہ بقرہ میں خدا وند سبحان نے بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:” وَلاَتَلبِسُوا ال حَقَّ بِالبَاطِل.... “ ( بقرہ ۲۴) اے بنی اسرائیل حق کو باطل کا لباس کیوں پہناتے ہو اور باطل کو حق کا لباس کیوں پہناتے ہو؟
امیر المومنین - فرماتے ہیں: اگر حق خالص ہو تا اور باطل بھی خالص ہوتا تو اہل حق کو کوئی دشواری پیش نہ آتی لیکن ہو ایہ کہ بعض نے حق کو باطل اور باطل کو حق کے ساتھ ملا کر مخلوط کر دیا ہے۔ حق باطل نظر آتا ہے اور باطل حق دکھائی دینے لگا ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کے اندر تحریف و تلبیس کرنے والوں نے جو آلودگی پیدا کردی ہے اسے روشن کیا جائے اور دین خالص کے اندر ناخالص کی نشاندہی کی جائے۔ دین اسلام میں بھی یہ ناخالصی ایجاد کی گئی ہے۔ قرآن تحریف سے محفوظ ہے لیکن تحریف کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مبادا تمھارے دین میں بھی تحریف کر کے اسے ناخالص بنا دیا جائے ۔کلامِ خدا تحریف لفظی سے پاک و منزہ ہے کیونکہ اسکی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لیا ہے لیکن شناخت دین اور فہم دین میں فراوان ملاوٹ ہوئی ہے ۔فہم کے پاک و منزہ رکھنے کی ذمہ داری اللہ نے خود مومنین کے اوپر ڈالی ہے اور علمائے دین کا فریضہ قرار دیا ہے۔
امام خمینی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: دین الہی کو جیسے تھا ویسے ہی امت کے سامنے لانے اور پیش کرنے کی ضرورت ہے خالص، ناب، الہی، محمدی اور قرآنی دین کی ضرورت ہے ۔ امام راحل ؒنے دین کو خالص سمجھا اور امت کے سامنے پیش کیا جسکا حکم قرآن نے دیا ہے کہ
'' وَمَا اُمِرُوا اِلاَّ لِیَعبُدُوا اﷲَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ ....''
انہیں فقط یہ حکم دیا گیا تھا کہ دین کو خالص رکھتے ہوئے صرف اللہ کی عبادت کریں
پس دین کو خالص رکھنا مومن کا اصلی فریضہ ہے۔
To Be Continued...