خطۂ حجاز جو آج سعودی عرب کے نام سے پہچانا جاتا ہے بہت سارے پہلوئوں سے بے مثال اور بے نظیر ہے۔ کعبہ معظمہ اس خطے کے اندر واقع ہے جس کی وجہ سے زمین کا یہ حصہ عظمت میں لاثانی ہے۔ کعبہ کو قرآن کریم میں بیت اللہ کہا گیا ہے ۔ حجاز میں مکہ معظمہ ہے اور اس کے اندر خدا کا گھر ہے۔ مکہ کی زمین کا ایک وسیع حصار حرم کہلاتا ہے۔ حجاز میں صحرائے عرفات ہے، سرزمین مشعر ہے وادی منیٰ ہے، صفاو مروہ ہے اور زمزم ہے۔
حجاز میں مولدرسول اللہ ۖ ہے۔اس میں جبل نور کے اندر غار حراء بھی ہے۔ حجاز سرزمین وحی ہے اور محل نزول قرآن ہے۔ سر زمین نبوت و رسالت ہے۔ اسی زمین پر اشرف الانبیاء کا روضہ مقدسہ بھی ہے، مدینة الرسول ہے، آل رسول ۖ کا مولد و مدفن ہے، اصحاب نبی اسی سر زمین پر زندگی بسر کرتے رہے ہیں ،حمزہ سید الشہداء کی قبر اسی خطے میں ہے۔
سلسلہ نبوت کا خاتمہ اسی نقطے پر ہوا ۔ معجزات کی سرزمین بھی یہی ہے۔ تاریخ بشریت کا عظیم ترین تمدن یہیں پہ ظاہر ہوا ہے۔ جاہلیت کی زندگی بسر کرنے والوں نے عدالت کی حکومت کا حسین چہرہ یہاں پر دیکھا ہے۔ قیصر و کسریٰ کے طاغوتی نظاموں نے اسی سر زمین سے شکست کھائی ہے۔
سرزمین بعثت، مسیر ہجرت، مطاف انبیاء، میدان جہاد، مزار شہدائ، قربان گاہ اسماعیل، مسعیٰ ہاج، محل امتحان ابراہیم، قدمگاہ فاطمہ، پرورشگاہ حسنین، رزم گاہ علی، مطلع اسلام اورمسلمانوں کی قبلہ گاہ۔ سرزمین حجاز پوری تاریخ میں بشریت کی توجہ کا مرکز رہی ہے آج بھی ساری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور قیامت تک رہے گی۔
قبلہ مسلمین
ہر سال لاکھوں مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ ومدینہ میں اکھٹے ہوتے ہیں سال بھر میں عمرہ و زیارت روضۂ رسول ۖ کے لئے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان دنیا بھر سے سفر کر کے اس سرزمین پر حاضر ہوتے ہیں۔ ہرمسلمان کی دلی آرزوہوتی ہے کہ اپنی زندگی میں ایک دفعہ اسے مکہ میں بیت اللہ اور مدینہ میں روضہ ٔرسول ۖ کی زیارت نصیب ہو جائے۔ مسلمان جسمانی طور پر جہاں بھی رہتے ہوں لیکن ان کے دل ہمیشہ مدینہ و حجاز میں رہتے ہیں۔ آج ایک ارب سے زیادہ مسلمان اسی سرزمین کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ مدینہ و حجاز کے ذکر کو اپنے لئے عبادت سمجھتے ہیں۔ مکہ و مدینہ کے تذکروں کو بھی مقدس سمجھتے ہیں۔
مرکز امت مسلمہ
یہ سب کچھ حکمت الٰہی کے تحت ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے لئے مکہ کو انتخاب کیا۔ ابراہیم خلیل ـکو اس کی طرف ہجرت کا حکم دیا، خلیل اللہ کے ہاتھوں سے اس میں اپنا گھر تعمیر کروایا، اسی امام الناس کے ذریعے لوگوں کو حج کی دعوت دی اور پھر اپنے پیارے نبی ۖ کی ولادت کے لئے مکہ کو انتخاب کیا۔ اسی سر زمین پر قرآن اتارا اور بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو مسلمانوں کے لئے قبلہ مقرر کیا۔
اس خطے کو زمین کا مرکز، بشریت کا مرکز اور اہل اسلام کا مرکز قرار دیا۔ عبادتوں کا مرکز بھی اسی کو بنایا تاکہ امت مسلمہ کو ایک مرکزیت عطا ہو جائے جس کے گرد وہ جمع ہوں ، امت واحدہ بن کر حق کی پرستش کریں ،خدا کے دشمنوں کا مقابلہ کریں ،اللہ کے نام کا بول بالا کریں، کفر کو نیچا دکھائیں اور گمراہی کے راستوں کو ترک کر کے صراط حق پر قائم رہیں۔
سرزمین اعجاز
اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین کو قوموں اور قبائل کی ملکیت سے نکال کر تمام مسلمانوں کے لئے عام کر دیا ہے تا کہ ہر مسلمان کا اپنے مرکز میں آنا جانا آزاد ہو ۔ جارج جرداق کے بقول وہ سرزمین جو اپنی مخصوص آب وہواکی وجہ سے کسی انسان کے استفا دے کے قابل نہیں تھی، نہ زراعت کے لائق تھی نہ سکونت کے قابل، نہ تجارت کے لئے موزوں اور نہ ہی گردش و تفریح کے لئے مناسب ،جس کے خوفناک ریگستانوں کی وسعت کو فقط خیال و گمان کے ذریعے ناپا جا سکتا ہے۔ جہاں ہر چیز نا آرام ہے حتیٰ ریت کے ذرے بھی ایک جگہ مقیم نہیں رہتے ۔جس کے تپتے صحرائوں نے اس کے ساکنین کو خانہ بدوش بنا دیا ہے۔ جہاں آسمان سے سالھا سال پانی کا قطرہ تک نہیں ٹپکتا اور خاک سے گھاس کا تنکا بھی نہیں اگتا۔ جس سرزمین کے باسی وحشی، تند خو اور غیر متمدن تھے لیکن اسی سر زمین کو خدا وند تعالیٰ نے سب سے بڑے اورعظیم معجزہ کے لئے انتخاب کیا ۔ اسے ایک ایسے پیغمبر اور ایسے آئین کے ظہور کے لئے انتخاب کیا جس نے مختصر مدت میں پوری دنیا کو تسخیر کر لیا جہاں سے تاریخ انسانیت کا درخشاں ترین تمدن نمودار ہوا۔
سرزمین انقلاب
امیر المومنین ـ کے مطابق خدا نے انہی سنگلاخ پہاڑوں اور ریتیلے صحرائوں میں اپنے آخری نبی کو مبعوث فرمایا جس نے اخلاق و اقدار سے پوری دنیا کو زندگی کا جاویدانی منشور عطا کیا ہے۔ حجاز کی ریتیلی خاک اور خشک و گرم موسم میں دنیا کو تسخیر کرنے کی صلاحیت موجودہے۔ توحّش کو تمدن میں بدلنے کی قابلیت اور تفرقے کو وحدت میں تبدیل کرنے کی اہلیت پائی جاتی ہے۔ اس سر زمین میں قتل وغارت کے بجائے امن و سلامتی برقرار کرنے کی طاقت اور مادیت کے بجائے معنویت کی فضا ہموار کرنے کی لیاقت بھی رکھتی ہے ۔ مسلمانوں کی اس قبلہ گاہ میں حق کے سامنے تمام انسانیت کی گردنیں خم کرنے کی بھرپور توانائی بھی موجود ہے۔
لیکن یہ سب اس کی خاک کی تاثیر نہیں ہے، اس کے ریتیلے صحراؤں اور پتھریلے پہاڑوں کی وجہ سے نہیں ہے ،وہاں کے بادیہ نشینوں اور شتربانوں کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اسلام ،قرآن اور نبی اکرم ۖ کے طفیل ہے ورنہ اسی سرزمین پر عصر جاہلیت بھی گزرا ہے، انسان زندہ درگور بھی ہوئے ہیں، قتل و غارت کا مشغلہ بھی رہا ہے اور ایسے ظلم و ستم بھی ہوئے ہیںجو زمین کے کسی دوسرے حصے میں ہر گز نہیں ہوئے۔
سرزمین حجاز کے دو رخ
سر زمین حجاز میں بہت نشیب و فراز آئے ہیں۔ زمانہ جاہلیت یہیں پر گزرا ہے ، نادان ترین اولاد آدم بھی یہاں زندگی گزار چکی ہے ، پاک ترین انسانوں نے بھی اسی سرزمین پر آنکھ کھولی ہے ، حجاز بت کدہ بھی رہا ہے اور خدا پرستی کا مرکز بھی ،شیاطین کی آماجگاہ بھی رہا ہے اور ملائکہ کا محل نزول بھی ، ابو جہل و ابو لہب بھی اس میں پیدا ہوئے ہیں اور محمد ۖ اور علی ـ بھی ،شجرۂ خبیثہ بھی یہیں تھا اور شجرہ ٔطیبہ بھی ، ظالم و قاتل بھی اسی میں تھے اور شہداء و مظلومین بھی ، ہند جگر خوار اور اس کا خاندان بھی یہیں آباد تھا اور سید الشہداء حمزہ اور ان کا خاندان بھی ، صحابہ بھی تھے اور مشرکین بھی ، مومنین بھی تھے اور منافقین بھی ، آل رسول ۖ بھی تھے اور دشمنان اہل بیت ٪ بھی،یہود بھی تھے اور مجاہدین اسلام بھی ،بربریت کا ماحول بھی تھا اور حکومت رسول اللہ ۖ بھی اسی سرزمین پر قائم ہوئی ہے۔ ملوکیت بھی یہیں تھی اور خلافت راشدہ بھی، طاغوتیت کا سایہ بھی یہاں رہا ہے اور امامت کا پر تو بھی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس سر زمین سے خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کا آغاز ہوا ۔ بنو امیہ کے بعد بنو عباس نے بھی اس سر زمین پر نشۂ اقتدار کے مزے لوٹے ہیں ۔عثمانی ترکوں نے بھی اس پر حکومت کی ہے اور ان کے بعد انگریزوں کا منحوس سایہ بھی اس پاک خطے پر پڑ ا جس کی نحوست ابھی تک باقی ہے۔
دنیا پر انگریزوں کا منحوس سایہ
اقوام عالم میں سے مختلف قوموں نے دوسری کمزور قوموں پر ظلم و ستم ڈھایا ہے لیکن تمام ستم گر اقوام میں سے انگریز قوم سب سے زیادہ ستم گر ثابت ہوئی ہے۔ حرص، لالچ اورلوٹ مار اس قوم کی ممتاز صفت ہے۔ پوری دنیا کو لوٹنے کا سہرا اسی کے سر بندھا ہوا ہے۔ انگریزوں کو جس سر زمین پر مال و ثروت کا سراغ ملا اسے لوٹنے کے لئے انہوں نے ہر جرم کا ارتکاب کیا۔ چوری اور ڈاکہ گویا ان کی گھٹی میں پڑ اہوا ہے۔ اس لئے جہاں ضرورت پڑی انہوں نے جنگیں لڑیں ہیں ،جہاں ضرورت پڑی مکاری سے کام لیا ہے، اگر فتنہ ڈالنا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ وہ کہیں تجارت کے نام سے گھسے اور کسی جگہ آباد کاری کے عنوان سے داخل ہوئے۔ یہ تنہا قوم ہے جس کے قزاقوں نے ہر پانچ بر اعظموں کو لوٹا ہے، ان کی سر زمینوں پر قبضہ کیا ہے اور وہاں کے مقامی باشندوں کو اپنا غلام بنایا ہے۔
انگریزوں نے اپنی لوٹ مار کی راہ میں آنے والے ہر مانع کو بے دردی سے کچلا ہے۔ ان سفاکوں نے مذاہب کو بھی معاف نہیں کیا خصوصاً دین اسلام کے ساتھ ان کو شروع سے عناد رہا ہے انہوں نے ہر ممکنہ طریقے سے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔صلیبی جنگوں میں تمام یورپ نے مل کر مسلمانوں کے خلاف ایک سلسلہ وار جنگ کا آغاز کیا جس میں انگریز ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔
١١٨٩ سے لے کر١١٩٢ تک انگلستان کے بادشاہ فلیپ دوم نے صلیبی جنگوں کی قیادت کی لیکن صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ مکاری پر اتر آیا۔
اس کے بعد انگریز ایک دن کے لئے بھی آرام سے نہیں بیٹھے ہر روز مسلمانوں کے خلاف کوئی نئی سازش یا جدید کاروائی کرتے رہے ۔ ١٦٠٠ء عیسوی ملکہ الزبتھ نے ہندوستان کے اندر تجارت کا حکم نامہ صادر کیا۔ مکر و حیلہ گری اور ظلم و ستم کے ذریعے ١٨٥٧ تک ہندوستان مکمل طور پر برطانیہ کے زیر تسلط آ چکا تھا اور بر صغیر کی سر زمین پر ان سمندر ی ڈاکوئوں کا پرچم لہرانے لگا۔ اس میں نام نہاد مسلمان و ہندو حکمرانوں کی حماقت اور ہندوستانی عوام کی سادگی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مسلمانوں کے مرکز کا گھیراؤ
ہندوستان پر تسلط جمانے کے بعد استعماری قزاقوں نے مسلمانوں کے مرکز کو گھیرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ اس وقت اکثر مسلمان ممالک عثمانی حکومت کے ما تحت تھے جس کی وجہ سے عثمانی حکومت اس وقت کی سپر طاقت سمجھی جاتی تھی ۔انگریزوں کو یہ طاقت ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔صلیبی جنگوں میں مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد مکر و فریب کے ذریعے اس حکومت کو توڑنے کی سازشیں ہونے لگیں۔ اسی مقصد کے لئے انگلستان نے اپنے جاسوس اسلامی قلمرو میں مامور کیے جن کا کام مختلف قبائل اور قوموں کو مرکزی حکومت کے خلاف ابھارنا تھا۔
ان جاسوسوں نے پوری تندہی سے کام کیا۔ اس کی ایک مثال معروف برطانوی جاسوس لیفٹیننٹ کرنل توماس ایڈورڈ لارنس Thomas Edward Lawrence ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب عثمانی حکومت کو توڑنے کا مغربی منصوبہ طے پایا تو اس کے پہلے مرحلے کے طور پر کرنل لارنس کو عثمانی حکومت کے ماتحت عرب علاقوں میں روانہ کیا گیا تا کہ وہ عربوں کو مرکزی حکومت کے خلاف اکسائے اور انہیں شورش پر مجبور کرے ۔لارنس نے عربی زبان سیکھی ،عربی کلچر اپنایا ،عربوں کے نقاط قوت و ضعف کو پڑھا اور ان سے استفادہ کیا ۔مختلف باغی قبائل کو آپس میں اکھٹا کیا اور انہیںبرطانوی فوج کی مدد سے عثمانی حکومت کے خلاف لڑایا اور آخر کار اس مقصد میں کامیاب بھی ہوگیا ۔برطانیہ، پان عر ب ازم Arabism) PAN )اور محمد بن عبدالوہاب کے افکارنے مل کر عثمانی خلافت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور ہر حصے پر انگلستان کے حمایت یافتہ ایک قبیلے کو مسلط کر دیا۔
دیگر سر زمینوں کی طرح سر زمین حجاز بھی برطانوی توجہ کا مرکز قرار پائی کیونکہ اس چور استعماری قوت کو ااس سرزمین کی اہمیت اور افادیت کا بخوبی علم تھا ۔انہیں حجاز کے اندر مکہ اور مدینہ کی معنوی قوت و طاقت کا بخوبی اندازہ تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ مکہ و مدینہ کے دونوں حرم پوری دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں ۔جہان اسلام پر تسلط کے لئے اس مرکز کی تسخیر ضروری تھی چنانچہ برطانیہ نے نجد پر قابض قبیلہ آل سعود کی مدد کی تاکہ حجاز سے عثمانی تسلط کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے لئے عربوں کی ترکوں کے خلاف نہایت خونریز جنگیں ہوئیں اور عربوں کی آپس میں بھی ویران گر جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوںمیں دو برطانوی جاسوسوں کا اہم کردار رہا ہے۔ توماس لارنس شرفاء ہاشمی کے کیمپ میں اور ویلیم شکسپیئر آل سعود کے کیمپ میں فعال تھے ان دونوں کا اصلی کام عرب کے متحارب قبائل کو عثمانی حکومت کے خلاف متحد کرنا اور لڑانا تھا ۔
ویلیم شکسپیئر ایک جنگ میں مارا گیا تو برطانیہ نے اس کی جگہ ایک اور جاسوس مقرر کیا جس کا نام ہری سینٹ جان بریچر فلیبی تھا۔ سینٹ جان نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور اپنا نام عبداللہ رکھا ۔اس نے آل سعود کی تقویت کی اور برطانوی وعدوں پر امید وار رکھا۔ حجاز پر شرفاء کی حکومت تھی لیکن لارنس کی موجودگی کی وجہ سے عملاً یہ علاقہ برطانیہ کے تحت حمایت سمجھا جاتا تھا۔ ١٩٢٧ میں برطانیہ اور آل سعود کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے مطابق برطانیہ حجاز پرقبضہ کرنے کی راہ میں مانع نہیں ہو گا۔ ١٩٣٢ میں باقاعدہ طور پر برطانیہ نے حجاز کا علاقہ آل سعود کو سونپ کر حجا ز کے اندر ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کا نام سعودی عرب یا'' المملکة العربیة السعودیة ''قرار پایا۔
آل سعود کی تاریخ
آل سعود اصل میں سعود بن محمد بن مقرن کی اولاد میں سے ہیں۔ سعود بن مقرن نے ١٧٣٥ میں پہلی مرتبہ ایک جزیرے پر قبضہ کر کے اسے اپنا مسکن بنایا۔ اس کے بعد یہ قبیلہ پھیلتا گیا اور عثمانی حکومت کو توڑنے میں پیش پیش رہاہے۔ مختلف قبائل کے ساتھ بھی ان کی جنگیں ہوتی رہیں جن میں کبھی انہیں کامیابی ملی تو کبھی شکست بھی ہوئی ۔آل سعود کے اقتدارتک پہنچنے میں برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ جس عامل نے مدد دی وہ محمد بن عبدالوہاب ١٧٠٣ سے ١٧٩٢ تک کے مخصوص اسلامی افکار ہیںسعود بن مقرن کے بعد اس کا بیٹا محمد بن سعود باپ کا جانشین بنا۔ اس وقت آل سعود دیگر قبائل کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہیں تھے۔
١٧٤٤ میں محمد بن عبدالوہاب کو اس کے مخصوص عقائد و نظریات کی بناء پر اپنے خاندان والوں نے عُینّیہ سے نکال باہر کیا جس کے بعد وہ درعییہ میں محمد بن سعود سے ا ملا۔ دونوں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئے کیونکہ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت تھی، چنانچہ ان دونوں میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے مطابق دونوں ملک نجد اور ان کے اطراف کے علاقوں پر قبضہ کریں گے۔ مذہبی اقتدار محمد بن عبدالوہاب اور سیاسی اقتدار محمد بن سعود کے پاس رہے گا ۔معاہدہ کو مزیدمضبوط بنانے کے لئے محمد بن سعود نے محمد بن عبدالوہاب کی بیٹی سے عقد بھی کر لیا ۔
دونوں نے ایک دوسرے کی مدد سے نجد کے شہروں اور قبائل کو ایک ایک کر کے فتح کرنا شروع کر دیا ۔ محمد بن عبدالوہاب نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ اس وقت جتنے مسلمان ہیں وہ اگر اس کے افکار کو قبول نہیں کرتے تو کافر ہیں اور ان کا قتل جائز بلکہ واجب ہے ۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا کہیں پر لوگ مزاحمت کرتے اور کہیں تسلیم ہو جاتے یہ سب اہلسنت مسلمان تھے لیکن وہ محمد بن عبدالوہاب کے مخصو ص حنبلی نظر یات کے بجائے دیگرآئمہ مذاہب کی پیروی کرتے تھے۔
محمد بن عبدالوہاب کے مخصوص نظریات بعد میں وہابی فرقے کی بنیاد بنے جوآج بھی سعودی عرب میں رائج مذہب ہے۔آل سعود اور پیروان ابن عبدالوہاب نے تھوڑے سے عرصے میں بہت کامیابیاں حاصل کیں ۔ تقریباً نجد کا سارا علاقہ ان کے قبضے میں آ گیا۔ ان کی سپاہ کی دہشت ہر طرف پھیل گئی۔ جس شہر میں جاتے انہیں اپنے عقائد کی دعوت دیتے۔ انکار کرنے پر سب کچھ لوٹ لیتے اور افراد کو قتل کر دیتے۔
مسلمانوں کے گلے کاٹ کر لاشیں سر عام راہوں پر دفنائے بغیر چھوڑ دیتے ۔ان کے نزدیک ان کے علاوہ تمام مسلمان مشرک اور کافر ہیں اس وجہ سے ان کی ہر چیز مباح اور حلال ہے۔
سعودی عرب سلطنت کا قیام
آل سعود نے نجد پر مکمل قبضہ جمانے کے بعد حجاز کا رخ کیا اور ١٨٠٦میں مکہ پر قبضہ کر لیا لیکن١٨١٩ ء میں مصری فوج نے حملہ کر کے آل سعود سے حجاز کو آزاد کر الیا ۔اس کے بعد حجاز پر قبضے کے لئے آل سعود اور ابن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے جنہیں اخوان ا لتوحید کہا جاتا تھا کئی حملے کیے یہاں تک کہ آخر کار ١٩٣٢ میں برطانیہ نے مکمل طور پر حجاز کی چابیاں آل سعود کو سونپ دیں۔ اس وقت سے اب تک حجاز سعودی عرب کا حصہ بن گیا۔
سعودی عرب یا ''المملکة العربیة السعودیہ '' نامی سلطنت بننے کے بعد اس کا پہلا فرمانروا عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل تھا ۔سعودی عرب کے نام سے بننے والی نئی حکومت کو سب سے پہلے سوویت یونین نے تسلیم کیا
انگریزوں کی عنایات
اس طرح مسلمانوں کے مرکز اور قبلہ میں سعودیہ کی حکومت وجود میں ا ئی۔ یہ اقتدار آل سعود کو مسلمانوں کی مرکزی اور عظیم طاقت یعنی عثمانی حکومت کو توڑنے کے صلہ میں ملا۔ برطانیہ کی اس طرح کی عنایتیں اور بخششیں فراوان ہیں ۔انگریزوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے اندر اپنے ہی ملک و قوم اور دین و مذہب کے خلاف بغاوت و خیانت کرنے والوں کو انہیں کی سرزمینیں اور اقتدار کو پاداش اورانعام کے طور پر عطا کیا ہے ۔انگریزوں کی طرف سے عطیہ میں دیئے گئے ممالک اور حکومتیں کبھی بھی مسلمانوں کے لئے خیر کا باعث نہیں بنیں۔
١٧٥٧ء میںپلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولة کے ساتھ غداری کرنے کی پاداش میں میر جعفر کو انگریزوں نے بنگال کا گورنر بنا دیا۔ کرناٹک کے حاکم کے خلاف غداری کے صلے میں محمد علی کو دیال کا حاکم بنا دیا۔ میر قاسم اور نجم الدولة جیسے غداروں کو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے نوابی اور حاکمیت عطاکی۔
شیر میسور ٹیپو سلطان کے ساتھ غداری کرنے والے میر صادق اور پورنیا کو بھی انعامات کے وعدے دیئے گئے۔ اکثر عرب حکمران اور ممالک اسی انگریز دوستی اور اسلام و مسلمانوں کے ساتھ غداری کا نتیجہ ہیں۔
سعودی حکومت کے تین بنیادی ارکان
آل سعود کی حکومت کے تین بنیادی ارکان تھے۔
n ایک خاندان آل سعود۔ n دوسرا محمد بن عبدالوہاب کے نظریات۔ n تیسرے برطانیہ۔
یہ تینوں عناصر آج بھی قائم ہیں البتہ اس میں ایک تبدیلی ضروری آئی ہے اور وہ یہ کہ برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے۔ امریکہ نے ١٩٤٣میں سعودی عرب کے ساتھ سیاحتی تعلقات قائم کیے۔١٩٣٢ء میں وجود میں آنے والی آل سعود کی نئی حکومت کو کچھ عرصہ اپنے اندرونی مسائل سلجھانے میں لگا۔ قبائل کو اپنے ساتھ ملانے ، با قی ما ندہ مخالفین کو سرکوب کرنے اور دیگر انتظامی امور تر تیب دینے میں اچھا خاصا وقت لگا۔
اس وقت سعودی عرب میں تیل کا انکشاف نہیں ہوا تھا ۔درآمد کا واحد ذریعہ حجاج اور خانہ خدا کے زائرین تھے۔ ١٩٤٥میں دوسری جنگ عظیم کے دوران سعودی عرب نے اپنی بندرگاہیں باقاعدہ طور پربرطانیہ او رامریکہ کے حوالے کر دیں۔ البتہ اس سے پہلے برطانیہ اور امریکی کمپنیوں نے سعودیہ میں تیل بھی کشف کر لیا تھا جس سے اقتصادی طور پر حکومت کو تقویت ملی۔ ١٩٤٠سے پہلے آل سعود نے اندرونی مشکلات پر غلبہ پانے کے ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا شروع کیے اور آہستہ آہستہ اس مقصد و ہدف کی طرف قدم بڑھانا شروع کیے جس کی بنیاد پر تین رکنی اتحاد (آل سعود ، ابن عبدالوہاب اور برطانیہ)وجود میں آیا تھا۔
ان اہداف میں ایک ہدف دنیا ئے اسلام کی قیادت اور رہبری کو اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد چند عوامل نے مل کر انہیں اس مقصد کے قریب تر کر دیا۔ ایک جنگ میں متّفقین کی کامیابی یعنی امریکہ اور برطانیہ کی کامیابی دوم تیل کی دولت اور سوم فلسطین کے اندر صیہونیوں کی غصبی ریاست بنام اسرائیل کا قیام ہے۔
ملک فیصل کا کردار
آل سعود کے تمام حکمرانوں میں فیصل بن عبدالعزیز مذکورہ ہد ف حاصل کرنے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے ۔فیصل بن عبدالعزیز نے ١٩٦٤ میں سعود بن عبد العزیز کو اقتدار سے ہٹا کر خود تخت سنبھال لیا البتہ سعود بن عبدالعزیز کے زمانے میں بھی اصل اقتدار فیصل کے پاس ہی تھا۔
فیصل بہت ہی باصلاحیت فرد تھا۔ ١٩٠٥میں اس کی پیدائش ہوئی ہے اور ١٩٢٠میں اسے ریاض کا گورنر بنا دیا گیا۔ اس دوران جتنی جنگیں ہوئیں ان کی کمان فیصل نے سنبھا لی تھی۔ ایک چالاک سیاست دان ہونے کے ساتھ بہادر جنگجو بھی تھا۔ سعود بن عبدالعزیز کے زمانے میں و ہ ولی عہد بھی تھا ، وزیر اعظم بھی اور وزیر خارجہ بھی تھا۔ اسی دور میں اس نے ملک کو ترقی دینے کے کام تیز کر دیئے۔ کارخانے لگائے، درسگاہیں قائم کیں اور سب سے بڑھ کر خارجہ پالیسی زیادہ فعال انداز میں ترتیب دی۔ فیصل کو ١٩٦٤میں باقاعدہ سعودی عرب کا بادشاہ چن لیا گیا ۔ وہ پہلے سے ہی تمام امور پرمسلط تھا۔ملک کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کے بعد اس نے دنیائے اسلام کی طرف زیادہ توجہ دی۔ فلسطین کے ماجرا میں اس نے بھرپور کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا ،عرب ملکوں کی قیادت کی دیرینہ خواہش پوری کر لی کیونکہ اس سے پہلے عرب ملکوں کی قیادت مصر کے ہاتھ میں تھی لیکن شاہ فیصل کے زمانے میں سعودیہ نے پیسے کی طاقت سے تمام عرب اسلامی ممالک کے دورے کیے حتیٰ وہ پہلا سعودی حکمران ہے جس نے ١٩٦٦ میں ترکی کا دورہ کیا، اس طرح تیونس، مراکش، اور مصر کو اس نے ا پنا ہمنوا بنالیا۔
شاہ فیصل اس وقت دنیائے اسلام کا ہیرو بن گیا جب ١٩٧٣ کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اس نے اسرئیل کی مدد کرنے والے ممالک کو تیل کی سپلائی بند کر دی۔اس اقدام نے جہاں پر مسلمان دینا میں اسے ہیرو کا درجہ دیا۔ و ہیں مغربی دنیا میں کھلبلی مچا دی ۔فیصل کی کوششوں سے عرب ممالک کی تنظیم بنی اور کانفرنس ہوئی اور اسی کی کوششوں سے اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس بھی منعقد ہوئی۔
اس وقت امریکہ نے آل سعود کو فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کی وجہ سے چھوڑ کر ایران کو مضبوط کرنا شروع کیا اور خطے میں اسے پولیس مین کا رول سونپ دیا۔ شاہ ایران نے بھی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب اور امریکہ کی خوشنودی کے لئے اسرئیل سمیت تمام مغربی ممالک کو تیل کی ترسیل شروع کر دی۔سیاسی سطح پر سعودی عرب اسلامی دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا، یعنی حکومتوں اور حکمرانوں کے ساتھ روابط استوار ہو گئے۔ تیل کی دولت نے فقیر مسلمان ممالک میں یہ کام اور تیز کر دیا۔