اصلی صفحہ

مناسبت سے پڑھیئے
شناخت قرآن - حصہ 9
شناخت قرآن - حصہ 8
شناخت قرآن - حصہ 7
شناخت قرآن - حصہ 6
شناخت قرآن - حصہ 5
شناخت قرآن - حصہ 4
شناخت قرآن
شناخت قرآن
 

ذوالقعدہ ذوالحجة

  مشرب ناب در سخن ناب - حصہ 7 صفحہ 2
  خطبہ مِنا صفحہ 3
  شناخت قرآن - حصہ 7 صفحہ 3
  عالم اسلام میں سعودی ارب کا کردار - لبنان صفحہ 3
  حکمتِ علی - حکمت 2 - عزت و ذلت نفس 2 صفحہ 3
  امام خمینی کی نظریاتی بنیادیں - 7 صفحہ 3
   
 
آپ کا تبصرہ
  نام*
 
  ایمیل ایڈریس*
 
  تبصرہ*
 

 

اسپیم تصویر جانچیئے *

 

 

 

 
 
 

ذوالقعدہ ذوالحجة > شناخت قرآن - حصہ 7

  صفحہ : 1 2 3   >>>


شناخت قرآن کی بحث میں گزشتہ شمارے میں یہ ذکر ہوا تھا کہ قرآن مجید خداوند تبارک وتعالیٰ کا کلام ہے لیکن اس وقت ہما رے پاس یہ کلام اپنے نزول کے بعد والی شکل میں موجود ہے۔ خداوندتبارک وتعالیٰ نے اسے عالم الٰہ وعالم ربوبی سے زمین پر نازل کیا اوراس طرح اس کلام کو انسانوں کی سطح پر لایا گیا ہے یعنی اسے انسانوں کی زبان اور لفظی قالب میں ڈھالا گیا ہے جیسے سورہ زخرف میں بیان ہواہے کہ
 

'' ِنَّا َنزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ '' (یوسف ٢)

ہم نے قرآن کو اس لئے عر بی بنا یا ہے تا کہ تم اسے درک کر سکو اورسمجھ سکو۔
 

ارکان نزول

نزول قرآن کے چند ارکان ہیں یا چند چیزوں پر نزول موقوف ہے۔ اگرچہ خود نزول ِقرآن کے بارے میںفراوان بحثیں ہیں مثلاً نزول دفعی، نزول تدریجی وغیرہ لیکن یہ مباحث قرآن شناسی سے بالواسطہ مربوط ہیں اور ان کا تعلق کیفیت نزول سے ہے۔ ہمیں یہاں اجمالی طور پر صرف اتنا معلوم ہونا چاہیے کہ خدا وند نے قرآن مجید کو نازل کر کے انسانی فہم کی سطح تک پہنچا دیا ہے اور اسے انسانی فہم کی دسترس میں قرار دیا ہے، البتہ فلسفہ نزول دفعی و نزول تدریجی اور قرآن و شناخت قرآن میں ان کی تأثیر کو بعد والی ابحاث میں بیان کیا جائے گا۔


مُنزِل

نزول جن چیزوں پر موقوف ہے ان میں سے ایک مُنزِل ہے یعنی جب تک قرآن کو کوئی نازل کرنے والا نہ ہو وہ خود بخود نازل نہیں ہو سکتااور فاعل نزول ذاتِ خدا وند تبارک وتعالیٰ ہے کہ جس نے قرآن کو عالم اعلیٰ و کتاب مکنون و علم الٰہی سے انسانی سطح پر نازل کیا ہے ۔
 
قرآن مجید میں کئی جگہ پر متعدد تعبیرات کے ذریعے سے خدا وند تعالیٰ نے نزول کو اپنی طرف منسوب کیا ہے :

'' انّا انزلناہ ''، '' تنزیل من رب العالمین ''، '' ھو الّذی انزل ''

پس مُنزِل خود ذات خدا وند تبارک وتعالی ہے ۔


نازل

نزول جن چیزوں پر متفرع ہے ان میں سے دوسری چیز''نازل'' ہے۔ نازل خود قرآن یا کلا م خدا وند تبارک وتعالیٰ ہے جو پہلے معمولی انسانوں کی فہم سے باہر تھا لیکن نزول کے ذریعے قابل فہم بنا دیا گیا ہے۔ پس نازل خود قرآن ہے۔


منّزل علیہ

نزول صرف انہیں دو چیزوں یعنی نازل و مُنزِل سے وقوع پذیر نہیں ہوتا کیونکہ نزول کے فقط یہی دورکن نہیں ہیں بلکہ فاعل اور مفعول کے سا تھ جب تک امر سوم ضمیمہ نہ ہو نزول محقق نہیں ہوسکتا اور وہ ''منّزل علیہ '' ہے یعنی جس پر نزول ہو۔ پس اگر مُنزِل نے نا زل (نزول ) کر دیا ہو اور کلام بھی نزول سے متصف ہو گیا ہو لیکن جب تک''منّزل علیہ'' نہ ہو کہ جس پر قرآن نازل ہو اس وقت تک نزول محقق نہیں ہوسکتا ۔ خدا وند تبارک وتعالیٰ نے پیغمبر اکرم ۖ کے نورانی قلب کو منزّل علیہ قرار دیا ہے۔قرآن مجید کی بعض آیا ت میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے :

'' …وََنزَلْنَا ِلَیْکَ الذِّکْرَ … '' (نحل٤٤)
''… فَِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِک …'' (بقرہ ٩٧)

ہم نے آپ پر یہ ذکر نازل کیا ہے ۔ پیغمبر اکرم ۖکے نورانی قلب میں دو خصوصیتیں پائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کسی چیز کو دریافت کرتا ہے اوراس کو معمولی لوگوں کی زبان میں منتقل بھی کرتا ہے ۔ پس آپ کا قلب ِمبارک یکطرفہ نہیں ہے کہ فقط عالم الٰہ سے لے سکتا ہو لیکن عالم بشری کے ساتھ متصل نہ ہو۔ اس کے برعکس ہمارے قلوب فقط بشری اور زمینی ہیں لہٰذا عالم الٰہ سے کچھ دریافت نہیں کر سکتے، پس نزول قرآن کے لئے پیغمبر اسلام ۖ کے نورانی قلب کی ضرورت پڑتی ہے اورخدا وند متعال نے قرآن میں یہ فرما دیا ہے کہ یہ قرآن پہاڑوں پر نازل نہیں ہو سکتا کیونکہ پہاڑ اس کو تحمل نہیں کر سکتے اس لئے کہ پہاڑ فقط ایک بُعدی یعنی صرف مادی اور زمینی ہے لہٰذا اگرچہ پہاڑعظیم ، استوار اور پائیدار ہے لیکن نزول قرآن کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
 
'' لَوْ َنْزَلْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَرََیْتَہُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَةِ اﷲِ ''

اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر نازل کریں تو تم دیکھو گے کہ وہ خشیت ِ خدا سے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور کلامِ خدا کو تحمل نہیں کر سکیں گے۔
 
پس نزول قرآن کے لئے رسول اکرم ۖ کے قلب کی مانند حقیقت اور واقعیت درکار ہے، جو اس نورانی قرآن کو خدا وند سے وصول کرے اور اسے بشری زبان میں منتقل کر سکے ۔


مخاطب قرآن

ان تین چیزوں کے علاوہ نزول کے لئے ایک چوتھی چیز بھی ضروری ہے اور وہ''منزل لہ'' ہے،یعنی نزول کا مقصود اور مخاطب کون ہے؟

خدا وند متعال نے کس کے لئے اور کس کی خاطر پیغمبر اکرم ۖ کے قلب مبارک پر قرآن کو نازل کیا ۔ دوسرے لفظوں میں علت ِغائی یا غایت ِنزولِ قرآن کیا ہے؟
 
قرآن نے خود اپنا ہدف و مقصد اور نزول کی علت ِغائی کو بیان کیا ہے ۔ قرآن نے انسانوں کو اپنا مخاطب قرار دیا ہے چونکہ قرآن مجید بنی نوع ِبشر کے لئے نازل ہوا ہے لہٰذا اس نزول کا ہدف و مقصد خود انسان ہے ۔ یہ نکتہ بعد میں آنے والی ابحاث میں روشن ترہوجائے گاکہ انسان کے لئے نازل ہونے سے کیا مراد ہے ؟ قرآن جو انسان کے لئے آیا ہے انسان کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ اس کو کیا دینا چاہتا ہے ؟ اس سے کیا لینا چاہتا ہے ؟ قرآن کے اندر انسان کے لئے کون کونسی چیزیں ہیں؟
 

ہدف نزول ہدایت بشر

قرآن کی اپنی مختصر اور جامع ترین تعبیر کے مطابق قرآن انسان کے لئے ہدایت بن کر آیا ہے۔ پس یہ کتابِ ہدایت ہے نہ کوئی عنوانِ دیگر ۔ قرآن مجید نے ہدایت کے لوازمات کو بھی ذکر کیا ہے لیکن حقیقت و روح ِقرآن وہی ہدایت ِ انسان ہے، پس مخاطبین قرآن بنی نو ع انسان ہیں۔
 
انسان کے لئے اس مطلب کو درک کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس وقت یا تاریخ بھر میں جو چیز قرآن سے بشر کی محرومیت کا باعث بنی ہے وہ قرآن کا درست تعارف نہ ہونا ہے۔ قرآن کے حوالے سے سب سے بڑی الجھن قرآن کی شناخت و تعارف کے مرحلے میں رہی ہے، درحالیکہ قرآن کے بارے میں یہ ابتدائی درجے کی معرفت ہے لیکن درست طریقے سے بیان نہیں ہوئی ہے ۔ اگر چہ خود قرآن نے اپنے بارے میں اس معرفت کو پیش کیا ہے لیکن اسے نظر انداز کیا گیا ہے لہٰذا اسی وجہ سے مختلف قسم کے وسوسے ، شبہات و غلط نظریات پیدا ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ قرآن فقط انبیاء و معصومین کے لئے نازل ہوا ہے یاقرآن چونکہ عربی میں ہے لہٰذا عربوں کے لئے نازل ہوا ہے یا قرآن کسی خاص قوم یا طبقے خصوصاً علماء یا اہل علم و اہل مدرسہ کے لئے نازل ہوا ہے، حالانکہ قرآن میں کسی جگہ بھی ایسی تعبیر نہیں ہے البتہ قرآن میں یہ ضرورآیا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے درجات و مراتب ہیں، جیسے مطہرون یعنی باطہارت افراد قرآن کو دوسروں سے بہتر سمجھ سکتے ہیں اور اسی طرح دوسروں کو بھی قرآن سمجھنے کے لئے تطہیر کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی کے کچھ آداب اور سلیقے ہیں، انسان اگر ان آداب کے تحت قرآن کی طرف آئے تو قرآن کچھ سمجھ میں آتا ہے ورنہ قرآن پلے نہیں پڑتا۔
 
پس شناخت قرآن کے اس مرحلے میں انسان اس بات کا یقین پیدا کر لے کہ قرآن تمام نوع بشر کے لئے ہے،چاہے وہ مسلمان و مومن ہوں یا منافق و کافر، وہ کسی بھی قوم و قبیلے اور نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، کسی بھی مکتب و تفکر سے ان کا تعلق ہو وہ سب کے سب قرآن مجید کے مخاطب ہیں ۔

یہاں اجمالی طور پر ہم پہلے ان آیات اور پھر روایات کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں اس مطلب پر اصرا ر کیا گیا ہے کہ قرآن کا مخاطب بنی نو ع انسان ہے، لہٰذا نہ تو یہ طبقاتی کتاب ہے اور نہ ہی نسلی و لسانی کتاب ہے اور اسی طرح نہ ہی علاقائی و جغرافیائی کتاب ہے بلکہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور ہدایت عالمین کے لئے ہے ۔ پیغمبر اکرم ۖ کو بھی فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یہ کتاب آپ پر نازل کی ہے تاکہ آپ اس کو عالمین کے لئے بیان و تفسیر کریں ۔
 
عالمین دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

ایک عالَم کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے یعنی کئی عالم اور
دوسرا اہل جہاں کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی تمام جہان کے باسی اور رہنے والے ۔

پس رب العالمین یعنی عالمین و جہانوں کے مالک اور رب نے اس قرآن کو جہانوں یا اہل ِجہاں کے لئے نازل کیا ہے، پس قرآن کے مخاطب نوع انسان ہے ۔
 
روایات میں یہی مطلب واضح تر تعبیر کے ساتھ بیان ہوا ہے، مثلاً امام باقر ـ نے فرمایا کہ قرآن کسی خاص امت یا نسل کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ قرآن سورج کی طرح تمام نوع بشر کے لئے ہے۔

'' تجری مجری الشمس و القمر ''

پس قرآن تمام نسلوں کے لئے نازل ہوا ہے، یہ کتاب زمانۂ نزول کی نسل سے مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قرآن فقط ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو اس وقت موجود تھے ، لہٰذا بعد میں آنے والی نسلیں قرآن کا مخاطب نہیں ہیں حالانکہ قرآن کا لب و لہجہ بتا رہا ہے کہ پوری بشریت اس کی مخاطب ہے۔
 
خود قرآن مجید کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس کا مخاطب تمام نوع انسان ہے اور وہ ان کے لئے ہدایت بن کر آیا ہے۔ اس مطلب کی وضاحت کے لئے خود قرآن مجید سے چند شواہد کو بیان کیا جاتا ہے۔
 
سورہ مبارکہ بقرہ میں خدا وند تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قرآن نوعِ بشر کے لئے ہے :

'' شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی ُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ
مِنْ الْہُدَی وَالْفُرْقَان '' (بقرہ ١٨٥ )

قرآن مجید نے یہاں پر'' لِلنَّاس'' کی تعبیر استعمال کی ہے، یعنی قرآن کا مخاطب و منزل لہ ناس و بنی نوع بشر ہیں، البتہ ساتھ ہی قرآن نے یہ بھی بتا دیا کہ قرآن بشر کے لئے کونسا عنوان لے کر آیا ہے۔


قرآن کتاب ہدایت
 
آج مسلمانوں نے قرآن کو جو عناوین دے رکھے ہیں یا جن جہات سے قرآن کو لیا ہے خود قرآن نے ان جہات کاذکر نہیں کیا ہے بلکہ قرآن ان سے ہٹ کر دوسری جہت کو بیان کر رہا ہے، مثلاً ہم نے قرآن کو ثواب، استخارے کی کتاب سمجھ رکھا ہے اور اس کو متبرک و مقدس کتاب کے طو پر لیا ہے کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو اس میں ایک مقدس کرنٹ پھیل جاتا ہے اور ہر چیز کے اوپر تقدس کا سایہ چڑھ جاتا ہے، حالانکہ قرآن نے کسی جگہ پر بھی ان عناوین سے اپنا تعارف نہیں کرایا ہے، البتہ یہ کہا گیا ہے کہ گھر میں قرآن کا ہونا فضیلت ہے ، انسان کے سینے میں یا اس کے ہمراہ قرآن کا ہونا فضیلت ہے لیکن یہ کہ قرآن کو ایک مقدس کتاب کے طور پر جہاں رکھ دیں اس سے تقدس کی شعاعیں چاروں طرف پھیل جاتی ہیں اور اس طرح سے پوری فضاء مقدس ہوجاتی ہے۔قرآن کو اس طرح سے متعارف نہیں کروایا گیا ہے بلکہ اسے '' ھدی ً للناس '' کے عنوان کے تحت سے متعارف کرایا گیا ہے ۔

سورہ مبارکہ بقرہ میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن بنی نوع بشر کے لئے نازل ہوا ہے :

'' ِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا َنزَلْنَا …'' ( بقرہ ١٥٩ )

خدا وند متعال نے بشر کے لئے جو کچھ نازل کیا تھا اس حقیقت کو جو لوگ کتمان کرتے اور چھپاتے ہیں یعنی جو کچھ لوگوں کی خاطر آیا تھا اسی کو لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان تک ابلاغ نہیں کرتے اور لوگوں کے لئے اس کی تفسیر و وضاحت نہیں کرتے ایسے ہی لوگوں کے لئے ارشاد ہو رہا ہے۔

'' …ُوْلَئِکَ یَلْعَنُہُمْ اﷲُ وَیَلْعَنُہُمْ اللاَّعِنُونَ ''
 
ان پر اﷲ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی بھی لعنت ہے، یعنی وہ مخلوقات کہ جنہیں خدا وند نے لاعن ( لعنت کرنے والے ) کے طو ر پر بیان کیا ہے۔
 
واضح رہے کہ عربی زبان میں لعن سے مراد گالی نہیں ہے برخلاف اردواور فارسی زبان کے کہ ان زبانوںمیں لعن کو گالی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اگر کسی کو گالی دینی ہو تو کہتے ہیں تجھ پر لعنت ہو۔
 
عربی زبان میں لعنت سے مراد بد دعا ہے اور لعن کرنا فعل خدا ہے ''یَلْعَنُہُمْ اﷲُ'' یعنی اﷲ لعنت کرتا ہے، اب معاذ اﷲ خدا تو کسی کو گالی نہیں دیتا بلکہ خود اس نے ہمیں روکا ہے کہ کسی کو بھی گالی نہ دو '' لا تسبّوا '' حتیٰ کافر اور بتوں کو بھی گالی نہ دو ،پس یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کی ذات کسی کو گالی دے لہٰذا لعن ایک بددعا ہے کہ جو رحمت کے مقابلے میں ہے اور اس کا معنی محرومیت ہے ۔
 
وہ لوگ جو '' مَا َنزَل اﷲ '' یعنی جو اﷲ نے بشر کے لئے نازل کیا ہے اسے لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان تک صدائے قرآن و صدائے حق نہیں پہنچنے دیتے اور اس طرح سے بشریت و انسانیت کی محرومی کا باعث بنتے ہیں، تو '' یَلْعَنُہُمْ اﷲُ'' یعنی خدا وند متعال ان کو محروم کر دیتا ہے، کیونکہ یہ دوسروں کی محرومیت کا سبب بنتے ہیں لہٰذا نتیجے کے طور پر خود محروم ہوجاتے ہیں اور اﷲ انہیں ہر چیز سے محروم کر دیتا ہے، اپنی رحمت و ہدایت سے اور اسی طرح نجات و سعادت سے محروم کر دیتا ہے۔ اب ان کے لئے تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔
 

جنود الٰہی

خدا وند متعال نے بعض مخلوقات ایسی خلق فرمائی ہیں کہ جو لوگوں تک بعض امور پہنچانے اور ابلاغ کرنے پر مأمور ہیں جبکہ بعض دیگر اﷲ کی جانب سے اس امر پر مأمور ہیں کہ بعض لوگوں کو کچھ چیزوں سے محروم رکھنا ہے جیسے بعض ملائکہ کہ جن کا کام ہی محروم کرنا ہے۔
 
پس جب اﷲ تعالیٰ کسی فرد یا قوم کے حق میں لعن کرتا ہے تو اپنے ان مأمورین اور جنود کو حکم دیتا ہے کہ انہیں میری رحمتوں سے دور کردو اور میری رحمتوں کو ان سے روک لو، حکم ملنے کے بعد یہ مأمورین و جنود اللہ فرمان کی تعمیل کے لئے آجاتے ہیں ۔ یہ بعض اوقات ملائکہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات دوسری قوتیں ہوتی ہیں جو آکر کسی فرد یا قوم کی محرومیت کا باعث بن جاتی ہیں مثلاً ایک شخص ارادہ کرتا ہے کہ میں حرم میں زیارت کے لئے جائوں یا مسجد میں نماز و دعا کے لئے جائوں یا درس کے لئے جائوں تو فوراً ایک کال آجاتی ہے، کوئی دوست یا مہمان آجاتا ہے یا طبیعت خراب ہوجاتی ہے مثلاً پیٹ میں یا سر میں درد ہونے لگ جاتا ہے۔ یہ سب در اصل مأمورین الٰہی ہیں جنہیں خدا نے محرومیت کے لئے رکھا ہوا ہے کہ جائو فلاں کو جاکر محروم رکھو کیونکہ یہ ناپسندیدہ انسان ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میری بارگاہ میں آئے اور مجھے یاد کرے ۔
 
امام سجاد فرماتے ہیں کہ یہ کام خود ہی نہیں ہوجاتا اور یہ موانع خود بخود ہی پیدا نہیں ہوجاتے بلکہ گویا یہ سب اﷲ کی طرف سے ہوتا ہے۔ دعائے ابو حمزہ ثمالی کے آغاز میں ہی امام ـفرماتے ہیں خدایا جب بھی کوئی تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کا عزم و ارادہ کرتا ہے تو فوراً کوئی رکاوٹ پیش آجاتی ہے یا سستی آڑے آجاتی ہے، کوئی مزاحم ہوجاتا ہے یا بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے گویا تو نہیں چاہتا ہے کہ وہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، تجھے پسند نہیں ہے کہ اس جیسا انسان تیرے ذکر و عبادت کے لئے آئے۔
 
ہم ان چیزوں کو سادہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مہمان آگیا ہے حالانکہ اسے ہم کو محروم رکھنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ پس ہر وہ شئی جو ہمیں کسی چیز سے محروم کر رہی ہے وہ لاعن ہے اور ممکن ہے خدا کی طرف سے ہمیں محروم رکھنے کے لئے مأمور ہو، لہٰذا ان محروم کرنے والے امور سے پرہیز کرنی چاہیے اور ان سے بچنا چاہیے ، اس آیہ کریمہ میں قرآن مجید اسباب محرومیت میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہا ہے :

'' ِانَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا َنزَلْنَا مِنْ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِنْ بَعْدِ مَابَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ ُوْلَئِکَ یَلْعَنُہُمْ اﷲُ '' (بقرہ ١٥٩)

جو بشریت کو اس ہدایت و حقیقت سے روکتے ہیںجسے ہم نے قرآن یا دیگر کتب میں نازل کیا ہے اور اسے لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے تو خدا انہیں محروم کر دیتا ہے۔
 
آج بشریت جتنی قرآن و آسمانی ادیان سے محروم ہے دراصل کچھ لوگ اس محرومیت کا باعث بنے ہیں۔







صفحہ : 1 2 3

اظہار نظر دوبارہ دیکھئے ایمیل پرنٹ

انگریزی میں پڑہیے

 
 
Recent DVD Release